مت سو چئے۔۔۔
جا معہ کراچی میں داخل ہو ہی رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک دیوار پر پڑی جہاں بڑا بڑا لکھا تھا ’جوانڈیا کا یار ہے ملک کا غدار ہے ‘ یہ دیکھتے ہی ان لفظوں نے میرے زہن میں کشتی لڑنا شروع کر دی ، اب میں جیسے ہی جامعہ کراچی کے گیٹ سے اندر کی طرف بائیک کو لے کر آیا تو وہاں کھڑا ایک سیکورٹی گارڈہاتھ اٹھاتے ہو ئے لفظ ادا کر ہی رہا تھا کہ میں نے وعلیکم اسلام چاچاکہہ دیایہ سنتے ہی اس نے زور سے کہا کہ روکواور وہاں مجھے اپنی بائیک کی بریک لگانی پڑی اور تلخ لہجے میں پوچھے گئے سوال کے کون ہوں ، اور کہاں چلے جارہے ہو۔ اس رویہ نے مجھے شک میں ڈال دیا کے کہی میں ہی تووہ غدار نہیں کیونکہ آج کل لفظ غدار بہت عام ہو گیا ہے جس کا دل چاہتا ہے غدار کہہ دیتا ہے خیر میں نے کہا کے میں جامعہ کراچی کا ہی طالبِ علم ہوں اور اپنے ڈیپارٹمینٹ جا رہا ہو بس یہ سننا تھا کہ جناب کڑک لہجے میں بائیک ادھر ہی کھڑی کرنے اور اپنے آپ کو پیدل لے جانے کا حکم صادر ہوا اب اپنے جسم کو اپنی منزل کی جانب لے جا ہی رہا تھا کہ اچانک اس گارڈ کے موبائل سے رنگ ٹون کی آواز میرے کانوں میں گونجی کہ تیرے بنا زندگی سے کوئی شکوہ تو نہیں۔۔۔
اس رنگ ٹون نے میرے ذہن میں چلنے والی کشتی کا جواب ڈھونڈ لیا کے کتنی عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو ہم انڈیا کی فلم انڈسٹری کونہ صرف پروموٹ کررہے ہیں بلکہ مالی فائدہ بھی پہنچارہے ہیں اگر کوئی فلم ریلیزہوتی ہے تو ہفتوں تک ہاوس فل جاتے ہیں اور جب دوسری طرف ہمارے خود کے ملکی فائدے کے لئے باہمی تجارتی تعلقات کی بات ہوتی ہے تو دیواروں پر رکس کرتے یہ نعرے آجاتے ہیں ’’جو انڈیا کا یار ہے ملک کا غدار ہے‘‘میں یہ سوچتا ہوں کے یا تو یہ فلم انڈسٹری پروموٹ کرنا بند کرو یا دیواروں پر نعرے لکھنا ۔۔۔۔۔!!!

No comments:
Post a Comment