Tuesday, 24 June 2014

Magar Narien Hien .....

نہیں ہے میرے پاس تعلیم معیاری ، بجلی آتی نہیں ہے بیچاری ،دن کی روٹی نہیں اور بھوک سے ہے پیٹ خالی ، ہر روز عوام کی لاشوں میں ہے پیوست گولی ،خودی کو پہچانتے نہیں ، اور چند شخصیات کی بولتے ہیں بولی
مگر نعریں ہیں آرمی زندہ باد ۔۔۔۔۔۔۔  طلبان مردہ باد

ہاتھوں میں ڈگریاں اور نوکری کی امید لیئے پھرتے ہیں نوجوان اور جالی ڈگریاں لیئے ایوانوں میں بیٹھیں ہیں سیاستدان ۔۔۔۔
مگر نعریں ہیں ARY زندہ باد۔۔۔۔۔ GEO مردہ باد

تنظیمیں ہیں لسانیت پر مبنی اور فرقہ وارانہ جامعتیں کہلاتی ہیں مہزہبی ۔۔۔ اور مرتے ہیں انسان بہت
مگر نعریں ہیں جہموریت زندہ باد ۔۔۔۔ سیاستدان مردہ باد

قرضے ہیں IMF کے اور US AID کے احسان بہت ، مل جا ئے VISA تو چھوڑ بھی جا تیں ہیں ملک اپنا ۔۔۔۔
مگر نعریں ہیں پاکستان زندہ باد ۔۔۔۔۔ امریکہ مردہ باد

تحریر : سید علی رضا
Matsochiye.blogspot.com

Saturday, 14 June 2014

Siyasatdano ki Mazaak Raatien ...

                                                                           
                                                                        مت سو چئے۔۔۔

ہم اس ملک کے عوام ہیں جہاں سیاستدانوں کی سیاست سے  عوام کو زندگی میں تو چند روپے کی حلال نوکری تک  نہیں ملتی مگر کسی بم دھماکہ میں مرنے کے بعد لاکھوں روپے ضرور مل جاتے ہیں ،   اور جب  میرا میڈیا دیکھاتا ہے جو کسی عسکری ادارے ،مساجد ، امام بارگاہ غرض کہ پاکستان کے کسی بھی جگہ پھٹنے  سے  جو زندگیاں یکدم لاشوں میں تبدیل ہوجاتی  اسے میرے ملک کےلوگ سمجحتے ہیں کہ شاید وہ لاشیں اب مری ہوئی لاشوں کا ثبوت ہیں جس میں ایک جوان شہری سے لیکر ملک کا فوجی جوان ہوتا ہے پر درحقیقت وہ ان سیاستدانوں کی راتوں میں کی گئی مزاق راتوں کا نتیجہ ہے
۔۔۔۔۔  

Monday, 21 April 2014

Stop Violence Against Students ...

                                                         




 Stop Violence Against Students ....

آج جامعہ کراچی کے طالب علموں کی جانب سے شعبہ سیاست کے طالب علم  سلمان مشتاق کے لاپتہ ہو جانے پر احتجاج کیا گیا ، جس میں طلبہ نے ان کی بازیابی کے لءیے حکومتی اداروں سے اپیل کی ۔ان کو ۱۲ اپریل کو گلشن  معمار کے اطراف سے نا معلوم افراد کی جانب سے اتھآیا گیا ہے ۔ مگر تاحال ان کا کچھ پتہ نہیں چل پارہا ہے ۔ ان  کو بازیاب کروایا جائے انکے  دوستوں کا کہنا ہے کہ ہمیں تو یہ تک نہیں معلوم کے وہ زندہ بھی ہے ؟؟؟

گھر والوں کی جانب سے بھِی یہ اپیل کی گئی ہے کے ہمیں ہماری اولاد واپس کردو ، ہمیں  قصور بتایا جائے طلب علموں کی جانب سے بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبہ نہیں مانا گیا تو ہر تعلیمی ادارے سے طالب علم نکلیں گیں ۔۔۔


گزشتہ دنوں بھی دیکھا جاےَ تو بھِی جامعہ کراچی کے دو طالب علموں کو قتل کر دیا گیا مگر تا حا ان کے قاتلوں کو منظر عام تک نہیں لا یا جا سکا ، اس سے جا معہ کراچی کا تشخص پامال ہورہا ہے ، اور طلبہ پر نفسیاتی طور پر برا اثر پڑ رہا ہے ، اور ایک خوف کی فضاء قائم ہو رہی ہے جس کو انتظامیاں اور سیکیورٹی اداروں  کی جانب سے سنجیدگی سے دیکھنا  چاہئے۔۔۔

نوجوان بالخصوص طالب علم ملک کے مستقبل کے معمار ہیں
ان کے ساتھ کسی بھِی قسم کا تذلیل امیز رویہ بھِی بند کیا جائے
جو جامعہ کراچی میں اکژ دیکھا جا رہا ہوتا ہے ، اور تلاشی دہشت گردوں کی لی جا ئے عام طلب علموں کی نہیں ۔۔۔

کیونکہ کہ یہ اسی ملک سرمایہ ہیں ، جس کو جیسا لگائیں گیں اسی طرح کا پائیگیں۔۔۔  

Friday, 18 April 2014

GhaDDar

                                                                 
                                                       مت سو چئے۔۔۔
جا معہ کراچی میں داخل ہو ہی رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک دیوار پر پڑی جہاں بڑا بڑا لکھا تھا ’جوانڈیا کا یار ہے ملک کا غدار ہے ‘ یہ دیکھتے ہی ان لفظوں نے میرے زہن میں کشتی لڑنا شروع کر دی ، اب میں جیسے ہی جامعہ کراچی کے گیٹ سے اندر کی طرف بائیک کو لے کر آیا تو وہاں کھڑا ایک سیکورٹی گارڈہاتھ اٹھاتے ہو ئے لفظ ادا کر ہی رہا تھا کہ میں نے وعلیکم اسلام چاچاکہہ دیایہ سنتے ہی اس نے زور سے کہا کہ روکواور وہاں مجھے اپنی بائیک کی بریک لگانی پڑی اور تلخ لہجے میں پوچھے گئے سوال کے کون ہوں ، اور کہاں چلے جارہے ہو۔ اس رویہ نے مجھے شک میں ڈال دیا کے کہی میں ہی تووہ غدار نہیں کیونکہ آج کل لفظ غدار بہت عام ہو گیا ہے جس کا دل چاہتا ہے غدار کہہ دیتا ہے خیر میں نے کہا کے میں جامعہ کراچی کا ہی طالبِ علم ہوں اور اپنے ڈیپارٹمینٹ جا رہا ہو بس یہ سننا تھا کہ جناب کڑک لہجے میں بائیک ادھر ہی کھڑی کرنے اور اپنے آپ کو پیدل لے جانے کا حکم صادر ہوا اب اپنے جسم کو اپنی منزل کی جانب لے جا ہی رہا تھا کہ اچانک اس گارڈ کے موبائل سے رنگ ٹون کی آواز میرے کانوں میں گونجی کہ تیرے بنا زندگی سے کوئی شکوہ تو نہیں۔۔۔ 
اس رنگ ٹون نے میرے ذہن میں چلنے والی کشتی کا جواب ڈھونڈ لیا کے کتنی عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو ہم انڈیا کی فلم انڈسٹری کونہ صرف پروموٹ کررہے ہیں بلکہ مالی فائدہ بھی پہنچارہے ہیں اگر کوئی فلم ریلیزہوتی ہے تو ہفتوں تک ہاوس فل جاتے ہیں اور جب دوسری طرف ہمارے خود کے ملکی فائدے کے لئے باہمی تجارتی تعلقات کی بات ہوتی ہے تو دیواروں پر رکس کرتے یہ نعرے آجاتے ہیں ’’جو انڈیا کا یار ہے ملک کا غدار ہے‘‘میں یہ سوچتا ہوں کے یا تو یہ فلم انڈسٹری پروموٹ کرنا بند کرو یا دیواروں پر نعرے لکھنا ۔۔۔۔۔!!!

Talib e ilm km hai ya ILM ???

University of Karachi 
Mehmood Hussain Library 

INNOVA 14